ابنا: موصولہ رپورٹوں کے مطابق پوليس اہلکار منگل کي صبح سے ہي امريکا اور برطانيہ کے سفارت خانوں کے اطراف موجود تھے اور مظاہرے کے وقت انہوں نے مظاہرين کو سفارت خانے کے قريب نہيں جانے ديا - اس موقع پر کئ مظاہرين سے پوليس کي جھڑپيں بھي ہوئيں -
رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے اکثر شرکاء مسلمان تھے جنہوں نے امريکہ کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ديگر ممالک ميں واشنگٹن کي مداخلتوں کو عالمي نظام ميں خلل کا باعث قرار ديا -
اسي کے ساتھ مظاہرين نے اپنے ہم وطنوں سے مذہبي تصادم کو ختم کرنے کي اپيل کي اور امريکا کو اسلام اور مسلمانوں کا دشمن قرار اور حاليہ دنوں ميں ميانمار ميں مسلمانوں اور بودھسٹوں کے درميان ہونے والي جھڑپوں کا ذمہ دار قرار ديا -
امريکہ نے حاليہ دنوں ميں ، جمہوريت کے قيام کے بہانے ميانمار ميں اپني سرگرمياں بڑھادي ہيں ، جبکہ بہت سے ذرائع ابلاغ ميانمار ميں امريکہ کي موجودگي کا مقصد ، چين کا محاصرہ تنگ کرنا اور مشرقي ايشيا ميں چين کے اثرات کو کم کرنا قرار دے رہے ہيں........
/169